اہنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

اہنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں ہوں گر پھول تو جُوڑے میں سجا لے مجھ کو

میں کُھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو

ترکِ الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے، مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے ترا، آج ستا لے مجھ کو

باندھ کر سنگِ وفا کر دیا تو نے غرقاب
کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو

خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو

بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

(قتیل شفائی)

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا
اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں‌ گا

لے کے میرا پتا وقت رائیگاں نہ کرو
میں‌تو بنجارا ہوں کیا جانے کہاں‌ جاؤں گا

اس طرف دھند ہے، جگنو ہے نہ چراغ کوئی
کون پہچانے کا بستی میں اگر جاؤں‌ گا

زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا
تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اتر جاؤں ‌گا

یہاں رہ جائیں‌گے گلدانوں میں یادوں کی نذر
میں تو خوشبو ہوں فضاؤں میں‌بکھر جاؤں گا

گھر واپس جب آئو گے تم

گھر واپس جب آئو گے تم
گھر واپس جب آئو گے تم
کون تمھیں پھچانے گا
کون کہے گا کون کہے گا
کون کہے گا تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
بن دستک دروازہ گمسم
بن آہٹ دہلیز
سونے چاند کو تکتے تکتے
راہیں پڑ گئیں ماند
کون کہے گا کون کہے گا
کون کہے گا تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
کون کہے گا تم بن ساجن
کیسے کٹے دن رات
ساون کےجو رنگ گھلے
اور ڈوب گئی برسات
کون کہے گا کون کہے گا
کون کہے گا تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
پل جیسے پتھر بن جائیں
گھڑياں جیسے ناگ
دن نکلے تو شام نہ آئے
آئے تو بہران
کون کہے گا کون کہے گا
کون کہے گا تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
گھر واپس جب آئو گے تم
گھر واپس جب آئو گے تم
کیا دیکھو کیا پائو گے
کیا دیکھو کیا پائو گے
یار نگار وہ سنگی ساتھی
یار نگار وہ سنگی ساتھی
مدھ بھریاں تھی اکھیاں جن کی
مدھ بھریاں تھی اکھیاں جن کی
باتیں پھلجھڑیاں
بجھ گئے سارے لوگ وہ پیارے
رہ گئیں کچھ لڑیاں
تم بن ساجن تم بن ساجن
تم بن ساجن تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
پھول ببول بگولے دیکھو
پھول ببول بگولے دیکھو
ایک گریزاں موج کی خاطر
ایک گریزاں موج کی خاطر
صحرا صحرا پھرتے ہیں
صحرا صحرا پھرتے ہیں
تم بھی پھرو درویش صفت اب
تم بھی پھرو درویش صفت اب
رقصاں رقصاں حیراں حیراں
رقصاں رقصاں حیراں حیراں
لوٹ کہ اب کیا آئو گے
اور کیا پائو گے
کیا پائو گے
کیا پائو گے
کون کہے گا کون کہے گا
کون کہے گا تم بن ساجن
یہ نگری سنسان
یہ نگری سنسان
یہ نگری سنسان

مائے نی میں کِنوں آکھاں

مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
دھواں دُھکھے میرے مرشد والا
جاں پھولاں تے لال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
سُولاں مار دیوانی کیتا
برہوں پیا ساڈے خیال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
دُکھاں دی روٹی، سُولاں دا سالن
آہیں دا بالن بال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
جنگل بیلے پھرے ڈھڈیندی
اجے ناں پائیو لال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
رانجھن رانجھن پھراں ڈھوڈیندی
رانجھن میرے نال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
کہے حُسین فقیر نمانا
شوہ ملے تے تھیواں نہال نی
مائے نی میں کِنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی

اگر کبھی میری یاد آئے

اگر کبھی میری یاد آئے  

تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اُڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے۔۔۔۔۔
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہےکہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں، اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو یہ سوچ لینا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
صدائیں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
اس جزیرے پہ بھی اترنا!!!
~
امجد اسلام امجد ~

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچاکے چلے
ہے اہل دل کے لئے اب یہ نظمِ بست و کُشاد
کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد
بہت ہے ظلم کے دستِ بہانہ جُو کے لئے
جو چند اہلِ جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں ہوس، مدّعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
تیرے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں
بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھرگئی ہو گی
چمک اُٹھے ہیں سَلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر تیرے رُخ پر بکھر گئی ہو گی
غرض تصوّرِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایہ دیوار و در میں جیتے ہیں
یونہی ہمیشہ اُلجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کِھلائے ہیں ہم نے آگ میں پُھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اِسی سبب سے فلک کا گِلہ نہیں کرتے
تیرے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے
گر آج تجھ سے جُدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

اکثر شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے

اکثر شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن عیش کے
بنتے ہیں شمع ذندگی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

وہ بچپنا وہ ساد گی ۔ ۔ ۔ وہ رونا، وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے ۔ ۔ ۔ وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا ۔ ۔ ۔ وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ
لذّتِ بزمِ طرب ۔ ۔ ۔ یاد آتے ہیں اِک ایک سب

دل کا کنول جو روز و شب ۔ ۔ ۔ رہتاشگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے ۔ ۔ ۔ اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کمہلایا ہوا ۔ ۔ ۔ ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا
روندا پڑا ہے خاک پر

یوں ہی شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن رنج کے
بنتے ہیں شمع بیکسی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
ان حسرتوں کی قبر پر

جوآرزوئیں پہلےتھیں ۔ ۔ ۔ پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دو ستو ں کی موت کا ۔ ۔ ۔ اُن کے جواناں فوت کا
لے دیکھ شیشسے میں مرے ۔ ۔ ۔ ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد ش ایام سے ۔ ۔ ۔ جو قسمت ناکام سے
یا عیش غم انجام سے۔ ۔ ۔ مرگ بت گلفام سے
خود دل میں میرےمر گئیں ۔ ۔ ۔ کس طرح پاؤں میں حزیں
قابو دل بے صبر پر

جب آہ ان احباب کو ۔ ۔ ۔ میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں ۔ ۔ ۔ گر جائیں سب قبل از خزاں
اور خشک رہ جاۓ شجر

اس وقت تنہائی میری ۔ ۔ ۔ پھر بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر ۔ ۔ ۔ ہُو حق سا اک ویراں گھر
برباد جس کو چھوڑ کر ۔ ۔ ۔ سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں ۔ ۔ ۔ چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پر نالے ہیں روزن نہیں ۔ ۔ ۔ يہ ہال ہے آ نگن نہیں
پردے نہیں چلمن نہیں ۔ ۔ ۔ اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی ۔ ۔ ۔ جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل ۔ ۔ ۔ پو چھے نہ جس کو دیوبھی
اجڑا ہوا ویران گھر

یوں ہی شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن عیش کے
بنتے ہیں شمع ذندگی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

~نادر کاکوروی ~

Oft in the Stilly Night
 

Oft, in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Fond Memory brings the light
Of other days around me;
The smiles, the tears,
Of boyhood's years,
The words of love then spoken;
The eyes that shone,
Now dimm'd and gone,
The cheerful hearts now broken!
Thus, in the stilly night,
Ere Slumber's chain hath bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

When I remember all
The friends, so link'd together,
I've seen around me fall
Like leaves in wintry weather;
I feel like one,
Who treads alone
Some banquet-hall deserted,
Whose lights are fled,
Whose garlands dead,
And all but he departed!
Thus, in the stilly night,
Ere Slumber's chain hath bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

~Thomas Moore~

حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں

متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں
فرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیں

جہان رنگ و بو الجھا ہوا ہے ان کے ڈوروں میں
لگی ہیں کاکل تقدیر سلجھانے تری آنکھیں

اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں
اٹھاتی ہیں بہارِ نو کے نذرانے تری آنکھیں

وہ دیوانے زمام لالہ و گل تھام لیتے ہیں
جنہیں منسوب کر دیتی ہیں ویرانے تری آنکھیں

شگوفوں کو شراروں کا مچلتا روپ دیتی ہیں
حقیقت کو بنا دیتی ہیں افسانے تری آنکھیں

۔(ساغر صدیقی)۔

دو چار حرف

اگر کبھی لکھنے کو دل چاہے مگر لکھنے کو کُچھ نہ ہو۔ بندہ نہ شاعر ہو نہ افسانہ نگار۔ تو بھر کیا خواہش کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ یا پھر آنکھیں بند کر کے کمپیوٹر پر اُنگلیاں مارتے چلے جائیں، کاغذ پر ایک کونے سے دوسرے تک لکیریں لگاتے چلے جائیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر لکھنے کو دل چاہے تو ضرور لکھنا چاہیے۔ لکھنا میرے نزدیک بولنے سےکئی طرح سے بہتر ہے۔ بولنے کے لیےکوئی سُننے والا چاہیے۔ اور پھر مُنہ سے کوئی اُلٹی سیدھی بات نکل جائے تو اُسے سُننے والے کان تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جسم سے نکلی روح واپس آ سکتی ہے مگر مُنہ سے نکلی بات نہیں۔ تو پھر لکھنا بہترہی بہتر ٹھہرا۔ سوچنے کا سمے بھی زیادہ، لکھے کو مٹا کر بدلنے کا بھی موقع، اور مرضی لکھنے والے کی کہ تحریر کسی پڑھنے والے تک پہنچے کہ نہیں۔ اور اکیلے بیٹھے کوئی لکھتا اکیلے بیٹھے کسی ہم کلام سے کئی درجہ کم مخبوط الحواس لگے گا۔

میں اس وقت اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو کچھ بھی لکھے اتنا عرصہ ہو چلا کہ لگتا ہے ذہن ساقط و جامد ہو گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ آدھی رات کی ٹوٹی نیند کے بعد اس سے بہتر کوئی اور کام نہیں سوجھ رہا۔ تیسری وجہ میری بیگم ہے۔ جو ہمیشہ کہتی ہے کہ اُس کے پاس لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر اُسے لکھنا نہیں آتا۔ سو میں یہ دو چار حرف لکھ کر اُسے دکھاوں گا کہ لکھنے کو تو کُچھ نہ بھی ہو تب بھی لکھا جا سکتا ہے۔ لکھنے کے نہ تو مجھے پیسے ملنے ہیں نہ کوئی شہرت نہ ایوارڈ نہ واہ واہ۔ بس دل کیا اور لکھ ڈالا۔ ویسے اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر اِن دوچار حرفوں کو فرض کر لیا جائے کہ اِن کو دو چار لوگ پڑھنا پسند کریں گےتو پھر بھلا یہ ادب کی کونسی صنف ہو گی۔ شاید 'خودکلامی'۔ اب جب کہ میں یہ دو چار حرف لکھ چُکا ہوں تو میں انہیں اپنے بلاگ پر شائع کرنے لگا ہوں۔ اگر کسی کا گُزر میرے بلاگ سے ہو اور نظر سے یہ دو چار حرف گُزریں اور پڑھتے پڑھتے وہ ان آخری لائنوں تک بھی پہنچ جائے تو اس کی وجہ ہو گی کہ شاید وہ میرا کوئی انتہائی عزیز دوست ہو گا کہ مروّت میں پڑھ دیا، یا پھر شاید اُس کا مطالعہ ابھی اتنا اچھا نہیں ہو گا کہ پتا ہو کہ تمام تحریرں پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ خاص ایسی تحریر تو صرف لکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ اتنے اچھے اچھے لکھنے والے ہیں۔ پھر بھلا میرے پاس لکھنے کو کُچھ ہے بھی تو نہیں۔ سو میں تو فقط اس لیے لکھوں گا کہ دل چاہتا ہے۔اور اچھا لگتا ہے لکھنے کے بعد۔ ۔ ۔ ۔

گُلاب کے پھول

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گُلاب کے پھول

اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے
طُیور، نغمے، ندی،تتلیاں، گلاب کے پھول

کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ہے
عروسِ گل بہ قباۓ جہاں گلاب کے پھول

یہ   میرا   دامنِ   صد   چاک،  یہ   رداۓ  بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول

کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز
گندھے ہوئی بہ خمِ گیسواں، گلاب کے پھول

خیالِ یار ! ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار ! تری جھلکیاں گلاب کے پھول

مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر، دِلوں کا دھواں، گلاب کے پھول

سلگتے جاتے ہیں چُپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثالِ    چہرۂ   پیغمبراں   گلاب    کے    پھول

یہ  کیا طلسم  ہے  یہ  کس  کی  یاسمیں  باہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

مجید ۱مجد

افسوس اس قوم پر

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

یہ خلیل جبران کی ایک نظم کا اقتباس ہے جو اس نے 1934ء میں لکھی تھی۔ جبران لبنان کا رہنے والا تھا اور عین ممکن ہے کہ یہ نظم اپنے وطن کے حالات بلکہ حالاتِ زار کی نشان دہی کرتی ہو، لیکن یہ آج کے حالات پر یوں منطبق ہوتی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ نظم ملاحظہ فرمائیے:

میرے دوستو اور ہم سفرو
افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو
جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو
ایسی شراب پیےجو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو

افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے
افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو
اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو

~~ خلیل جبران 1934ء~~

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ خلیل جبران کی اسی نظم سے متاثر ہو کر مشہور نراجیت پسند امریکی شاعر لارنس فرلنگیٹی نے 2007ء میں ایک نظم لکھی، جو بلاتبصرہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے:

افسوس اس قوم پر جس کے عوام بھیڑیں ہوں
اور جنھیں اپنے ہی چرواہے گم راہ کرتے ہوں
افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں
اور دانا خاموش

جہاں منافق ہوا کے دوش پر راج کرتے ہوںافسوس اس قوم پر جو آواز بلند نہیں کرتی
مگر صرف اپنے فاتحوں کی تعریف میں
اور جو داداگیروں کو ہیرو سمجھتی ہے
اور دنیا پر حکومت کرنا چاہتی ہے
طاقت اور تشدد کے بل پر

افسوس اس قوم پر
جو صرف اپنی زبان سمجھتی ہے
اور صرف اپنی ثقافت جانتی ہے
افسوس اس قوم پر جو اپنی دولت میں سانس لیتی ہے
اور ان لوگوں کی نیند سوتی ہے جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہوں
افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر
جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے

میرے ملک
میری سرزمینِ آزادی
تیرے آنسو!

شکریہ: وائس آف امریکہ
http://www.urduweb.org/mehfil/archive/index.php/t-27675.html

بھول جاؤں تو بہتر ہے

بھول جاؤں توآج بہتر ہے

سلسلے قُرب کے جدائی کے

بُجھ چُکی خواہشوں کی قندیلیں

لُٹ چکےشہرآشنائی کے

رآئیگاں ساعتوں سے کیا لینا

زندگی سےشکایتیں کیسی

اب نہیں ہیں اگر گِلےتھے کبھی

بھول جائیں کہ جو ہوا سو ہوا

بھول جائیں کہ ہم ملے تھے کبھی

کہ اکثر اوقات چاہنے پر بھی

فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی

بعض اوقات چاہنے والوں کی

واپسی سے خوشی نہیں ہوتی

(مومنہ گُل) ۔

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں
راز کے گہرے پردوں میں
ہر شخص محبت کرتا ہے
حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں

سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
کب کون کسی کا ہوتا ہے
سب اصلی روپ چُھپاتے ہیں

احساس سے خالی لوگ یہاں
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں
اک بار نظر میں آ کر وہ
پھر ساری عمر رُلاتے ہیں

یہ  عشق  محبت ،  مہر و   وفا
یہ  سب   کہنے  کی  باتیں   ہیں
ہر شخص خودی کی مستی میں
بس   اپنی   خاطر    جیتا   ہے

وہ بتوں نے ڈالے ھیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا

وہ بتوں نے ڈالے ھیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا

وہ بتوں نے ڈالے ھیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ    پڑی    ھیں   ‌روز   قیامتیں   کہ  خیالِ  روز   جزا   گیا

جو  نفس  تھا   خارِ گلو  بنا  جو  اٹھے  تو  ہاتھ   لہو  ہوئے
وہ    نشاط    آہ   سحر    گئی    وہ    وقار   دستِ   دعا   گیا

نہ  وہ  رنگ   فصلِ  بہار  کا  نہ  روش   وہ   ابرِ  بہار   کی
جس   ادا   سے   یار   تھے   آشنا   وہ   مزاجِ  بادِ  صبا   گیا

جو    طلب    پہ   عہدِ  وفا    کیا    تو   آبروئے    وفا    گئی
سر  عام  جب   ہوئے   مدعی   تو  ثوابِ  صدق  و صفا  گیا

ابھی   بادبان   کو  تہہ  رکھ وابھی  مضطرب  ھے  رخِ  ہوا
کسی  راستے  میں ھے منتظر وہ سکوں  جو آ کے چلا گیا
فیض احمد فیض
~

خدا کرے میری ارضِ پاک پر اترے

خدا کرے میری ارضِ پاک پراترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے، کھلارہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اگے، ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

خدا کرے کہ نہ خم ہو سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کہ تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو، تہزیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو ، کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو ، زندگی وبال نہ ہو

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو